Aaj to be sbab Udas hy je
آج تو بے سبب اُداس ہے جی
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی
جلتا پِھرتا ہوں کیوں دوپہروں میں
جانے کیا چیز کھو گئ میری
جانے کیا چیز کھو گئ میری
وہیں پھرتا ہوں میں بھی خاک برسر
اِس بھرے شہر میں ہے ایک گلی
اِس بھرے شہر میں ہے ایک گلی
چُھپتا پھرتا ہے عشق دُنیا سے
پھیلتی جا رہی ہے رُسوائی
پھیلتی جا رہی ہے رُسوائی
ہمنشیں کیا کہوں کہ وہ کیا ہے
چھوڑ یہ بات نیند اُڑنے لگی
چھوڑ یہ بات نیند اُڑنے لگی
آج تو وہ بھی کُچھ خاموش سا تھا
میں نے بھی اُس سے کوئی بات نہ کی
میں نے بھی اُس سے کوئی بات نہ کی
ایک دم اُس کے ہاتھ چوم لئے
یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی
یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی
تُو جو اِتنا اُداس ہے ناصر
تُجھے کیا ہو گیا بتا تو سہی
تُجھے کیا ہو گیا بتا تو سہی
ناصر کاظمی
Comments